صاحب ذوق

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - طبع سلیم رکھنے والا، خوش مذاق، بامذاق۔ "ہمارے حجام میاں کو تو تم نے دیکھا تھا کتنا صاحِب ذوق آدمی تھا۔"      ( ١٩٨٤ء، زمین اور فلک اور، ٤٨ ) ٢ - شوقین، عاشق مزاج۔  صاحبِ ذوق بھلا رہتے ہیں پابند کہیں جی اگر تو جہاں ہے یہ مثل جھوٹ نہیں      ( ١٨٧٨ء، کلیاتِ صفدر، ٤٠٣ )

اشتقاق

عربی زبان سے مرکب اضافی ہے۔ عربی میں اسم فاعل 'صاحب' بطور مضاف کے ساتھ کسرۂ اضافت لگا کر عربی اسم مجرد 'ذوق' بطور مضاف الیہ ملنے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ اور سب سے پہلے ١٨٨٩ء کو "جامع القواعد" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - طبع سلیم رکھنے والا، خوش مذاق، بامذاق۔ "ہمارے حجام میاں کو تو تم نے دیکھا تھا کتنا صاحِب ذوق آدمی تھا۔"      ( ١٩٨٤ء، زمین اور فلک اور، ٤٨ )